مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَصَائِصِ] · حديث 13987
13987 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ «أَتَى الْبَصْرَةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَمِيرٌ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي ظِلِّ الْقَصْرِ يَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. لَا يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ: لَقَدْ أَكْثَرْتَ مِنْ قَوْلِكَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ! قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ، فَقُلْتُ: أَجَلْ، فَقَالَ: إِذَنِ اجْلِسْ، وَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ مِنْ كَذَا وَكَذَا، وَكَانَ شَيْخَانِ لِلْحَيِّ قَدِ انْطَلَقَ ابْنٌ لَهُمَا فَلَحِقَا بِهِ، فَقَالَا: إِنَّكَ قَادِمُ الْمَدِينَةِ، وَإِنَّ ابْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِهَذَا الرَّجُلِ، فَائْتِهِ فَاطْلُبْهُ مِنْهُ، فَإِنْ أَبَى إِلَّا الْفِدَاءَ فَافْتَدِهِ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ شَيْخَيْنِ لِلْحَيِّ قَدْ أَمَرَانِي أَنْ أَطْلُبَ ابْنًا لَهُمَا عِنْدَكَ، فَقَالَ: " تَعْرِفُهُ؟ "، فَقَالَ: أَعْرِفُ نَسَبَهُ، فَدَعَا الْغُلَامَ فَجَاءَ، فَقَالَ: " هُوَ ذَا فَائْتِ بِهِ أَبَاهُ "، قُلْتُ: الْفِدَاءُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَنَا آلَ مُحَمَّدٍ أَنْ نَأْكُلَ ثَمَنَ أَحَدٍ مِنْ آلِ إِسْمَاعِيلَ "، [ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى كِتْفِي] ثُمَّ قَالَ: " لَا أَخْشَى عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا "، قُلْتُ: وَمَا لَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِنْ طَالَ بِكَ عُمْرٌ رَأَيْتَهُمْ هَهُنَا، حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهَا كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ مَرَّةً إِلَى هُنَا وَمَرَّةً إِلَى هُنَا "، فَأَنَا أَرَى نَاسًا يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، رَأَيْتُهُمُ الْعَامَ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعِمْرَانُ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
عمران بن حصین ضبی کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ بصرہ آئے‘ وہاں حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ گورنر تھے‘ وہاں محل کے سائے میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا‘ اور یہ کہہ رہا تھا‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے‘ وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ رہا تھا‘ راوی کہتے ہیں: میں اس کے پاس گیا‘ میں نے کہا: تم بکثرت یہ بات کہہ رہے ہو‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے (اس کی وجہ کیا ہے) اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ چاہیں‘ تو میں آپ کو اس بارے میں بتا دیتا ہوں‘ میں نے کہا: ٹھیک ہے‘ اس نے کہا: پھر آپ بیٹھ جائیں اس نے بتایا:’’ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ میں فلاں‘ فلاں جگہ سے آیا تھا‘ ہمارے قبیلے کے دو بوڑھون کا لڑکا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملا تھا‘ ان دونوں نے کہا: تم مدینہ منورہ جاؤ! ہمارا بیٹا اُن صاحب سے جا کے مل گیا ہے‘ تم ان صاحب کے پاس جاؤ‘ اور ان سے اس لڑکے کا مطالبہ کرو‘ اگر وہ فدیہ لینا چاہیں‘ تو تم انہیں فدیہ بھی دے دینا‘ میں مدینہ منورہ آیا‘ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے قبیلے کے دو بوڑھے افراد نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں ان کے بیٹے کو آپ کے ہاں تلاش کروں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم اسے پہنچانتے ہو ؟ راوی نے کہا: میں اس کا نسب پہہچانتا ہوں‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکے کو بلوایا اور وہ آ گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہے وہ لڑکا‘ تم اسے اس کے باپ کے پاس لے جاؤ‘ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس کا فدیہ کیا ہو گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے لئے یعنی آل محمد کے لئے یہ بات درست نہیں ہے کہ ہم اولاداسماعیل میں سے کسی کی قیمت کھائیں‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: مجھے قریش کے بارے میں صرف ان کے اپنے حولے سے ہی اندیشہ ہے‘ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! وہ کیوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری عمر طویل ہوئی‘ تو تم اُن (قریش) کو دیکھو گے کہ وہ یہاں (حکمران) ہوں گے اور تم دوسرے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ اُن کے درمیان یوں ہونگے‘ جیسے کوئی بکری‘ دو حوضوں کے درمیان ہوتی ہے‘ کبھی وہ ادھر جاتی ہے‘ کبھی ادھر جاتی ہے۔راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے‘ اور پھر میں نے انہی لوگوں کو دیکھا کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں اندر آنے کی اجذت مانگ رہے تھے‘ تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور عمران نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ الضَّبِّيُّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter that does not come in the characteristics] · Hadith 13987
