مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي بَعْثَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمُومِهَا وَنُزُولِ الْوَحْيِ] · حديث 13939
13939 - «وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفِيلِ، وَبَيْنَ الْفِجَارِ وَبَيْنَ الْفِيلِ عِشْرُونَ سَنَةً، قَالَ: سَمُّوهُ الْفِجَارَ لِأَنَّهُمْ [فَجَرُوا]، وَأَحَلُّوا أَشْيَاءَ كَانُوا يُحَرِّمُونَهَا، وَكَانَ بَيْنَ الْفِجَارِ وَبَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَبَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ وَمَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسُ سِنِينَ، فَبُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ»، قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ الْمَوْلُودَ فَقَطْ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت قیس بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے اور جنگ فجار اور عام الفیل کے درمیان بیس سال کا فرق ہے‘ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اسے جنگ فجار کا نام اس لیے دیا ہے‘ کیونکہ ان لوگوں نے زیادتی کی تھی اور ان چیزوں کو حلال قرار دے دیا تھا‘ جسے وہ حرام قرار دیتے تھے‘ جنگ فجار اور خانہ کعبہ کی تعمیر کے درمیان پندرہ سال کا وقفہ ہے‘ اور خانہ کعبہ کی تعمیر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے درمیان پانچ سال کا فرق ہے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت چالیس سال کی عمر میں ہوئی تھی۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے‘ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش والاحصہ نقل کیا ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن مہران سماک ہے اس کی توثیق کی بھی کی گئی ہے‘ اور اس کے بارے میں کلام بھی کیا گیا ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ عَامَ الْفِيلِ، وَبَيْنَ الْفِجَارِ وَبَيْنَ الْفِيلِ عِشْرُونَ سَنَةً، ← قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13939
