حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام آسمان والوں اور تمام زمین والوں پر فضیلت عطا کی ہے‘‘۔ ایک شخص بولا: اے ابو عباس! اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں اور زمین والوں پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس حوالے سے فضيلت عطا کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا الله تعالیٰ نے اہل آسمان کے بارے میں یہ فرمایا ہے:’’ان میں سے جو یہ کہے کہ میں اس کے علاوہ معبود ہوں‘ تو اس کی جزا میں ہم اسے جہنم دیں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں‘‘۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ’’بے شک ہم نے تمہیں فتح مبین عطا کی‘ تاکہ الله تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئنده ذنب کی مغفرت کر دے‘‘۔انہوں نے یہ آیت مکمل تلاوت کی‘ ان سے کہا گیا: اے ابو عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ! انہیں دیگر انبیاء پر کس طرح فضیلت حاصل ہے؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: الله تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’ہم نے جس بھی رسول کو مبعوث کیا‘ اسے اس کی قوم کی زبان کے ہمراہ مبعوث کیا“۔ اور الله تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ’’اور ہم نے تمہیں‘ تمام انسانوں کے لئے‘ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے‘‘۔ تو الله تعالیٰ نے انہیں انسانوں اور جنات کی طرف بھیجا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں‘ صرف حکم بن ابان کا معاملہ مختلف ہے‘ اور وہ ثقہ ہے یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے انتہائی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Chapter of the Greatness of His Might, may God bless him and grant him peace] · Hadith 13927
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابُ عِظَمِ قَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 13928
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے‘ اور بے شک تمہارے آقا(یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے خلیل ہیں‘ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے دن اولادِ آدم کے سردار ہوں گے‘‘۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ’’عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام مقصود پر فائز کر دے گا‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: صحیح میں اس میں سے صرف یہ حصہ مذکور ہے: ”اور تمہارے آقا(یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)‘ اللہ کےخلیل ہیں ‘‘۔ اور یہ حدیث کے درمیان میں ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ حمانی ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
عبد الله -يعني ابن مسعود-
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Chapter of the Greatness of His Might, may God bless him and grant him peace] · Hadith 13928
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابُ عِظَمِ قَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 13929
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’اولادِ آدم میں منتخب لوگ پانچ ہیں‘ حضرت نوح علیہ السلام‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان سب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہتر ہیں‘‘ - اللہ تعالیٰ ان سب حضرات پر درود وسلام نازل کرے۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Chapter of the Greatness of His Might, may God bless him and grant him peace] · Hadith 13929
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: میں نے ایک روشنی دیکھی اور میں نے ایک آواز سنی‘ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں مجھے جنون لاحق نہ ہو جائے‘ تو سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: الله تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا‘ اے حضرت عبداللہ کے صاحبزادے! پھر سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی‘ تو ورقہ نے کہا: اگر تو وہ سچ کہہ رہے ہیں‘ تو پھر یہ وہی ’’ناموس‘‘ (یعنی فرشتہ) ہے‘ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آنے والے ’’ناموسں‘‘ کی مانند ہے اگر انہیں (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث کیا گیا اور میں اس وقت زندہ ہوا‘ تو میں ان کی بھرپور تائید اور مدد کروں گا‘ اور ان پر ایمان لے آؤں گا۔ یہ روایت امام احمد ’’نےمتصل‘‘ اور ’’مرسل‘‘ طوپر نقل کی ہے‘ امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے‘ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’میں ان کی اعانت کروں گا“۔ امام احمد کے رجال ’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13930
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آپ نبی ہیں؟ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پتہ نہیں تھا‘ یہاں تک کہ مجھے یہ بات بتائی گئی‘ میرے پاس دو فرشتے آئے‘ میں اس وقت مکہ کے میدان میں کسی جگہ موجود تھا‘ ان میں سے ایک نے کہا: کیا یہ وہی ہیں؟ پھر اس نے کہا: ایک شخص کے ساتھ ان کا وزن کرو‘ جب میرا ایک شخص کے ساتھ وزن کیا گیا‘ تو میرا پلڑا بھاری تھا‘ اس نے کہا: دس افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو‘ اس نے دس افراد کے ساتھ میر اوزن کیا‘ تو میرا وزن ان سے زیادہ تھا‘ پھر اس نے کہا: ایک سو افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو‘ جب انہوں نے ایک سو افراد کے ساتھ میرا وزن کیا‘ تو میرا وزن ان سے زیادہ تھا‘ پھر اس نے کہا: ایک ہزار افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو‘ اس نے ایک ہزار افراد کے ساتھ میرا وزن کیا‘ تو میرا پلڑا بھاری تھا‘ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اگر تم ان کا وزن ان کی پوری اُمت کے ساتھ کرو گے تو بھی یہ ان سے بھاری ہوں گے‘ پھر ان دونوں میں سے ایک نے کہا: ان کا پیٹ چیر دو! پھر اس نے میرا پیٹ چیر دیا‘ اور اس میں سے شیطان کا حصہ نکال دیا اور گوشت کا لوتھرا نکالا اور اسے ایک طرف رکھ دیا‘ پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے پیٹ کو سی دو! جس طرح برتن کو دھویا جاتا ہے‘ اور ان کے دل کو دھو دو! جس طرح چادر کو دھویا جاتا ہے‘ پھر اس نے سکینت منگوائی‘ وہ سفید چمک دار چیز کی مانند تھی‘ وہ میرے دل میں داخل کر دی گئی‘ پھر ان میں سے ایک نے دوسرےسے کہا: ان کے پیٹ کو سی دو! تو اس نے میرے پیٹ کو سی دیا‘ پھر میرے دونوں کندھوں کے درمیان انہوں نے مہر لگا دی‘ اور پھر وہ میرے پاس سے چلے گئے‘ اور یہ سب کچھ میں خود ملاحظہ کرتا رہا۔یہاں محمد بن معمر نے اپنی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:’’ وہ لوگ‘ میزان کے پلڑے سے میرے اوپر گرنے کے قریب تھے‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نقل کردہ حدیث ’’صحیح ‘‘ میں واقع معراج سے متعلق باب میں مذکور ہے‘ اور وہ اس کے علاوہ ہے۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن عبدالله بن عثمان بن کبیر ہے‘ جسے ابو حاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے‘ عقیلی نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں‘ اور صحیح کے رجال ہیں۔
قُلْنَا ← وعن ابي ذر
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13931
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں اونٹ والوں اور بکری والوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں‘ فخر کا اظہار کیا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا‘ تو وہ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا‘ تو میں ’’جیاد‘‘ کے مقام پر‘ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتا تھا‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاة ہے‘ اور وہ مدلس ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13932
حضرت ورقہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ کے پاس جو فرشتہ آیا تھا‘ وہ کیسے آپ کے پاس آیا تھا؟ ان کی مراد‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ آسمان سے میرے پاس آیا‘ اس کے دونوں‘ پر موتیوں سے بنے ہوئے تھے‘ اور اس کے دونوں پاؤں کا اندرونی حصہ سبز تھا‘‘۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13933
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ کو وحی محسوس ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں ! میں آواز سنتا ہوں‘ جیسے زنجیر کی آواز ہوتی ہے‘ اور پھر جب ده آواز آتی ہے‘ تو میں خاموش ہو جاتا ہوں‘ اور جب بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے‘ تو مجھے یوں لگتا ہے‘ جیسے میری جان قبض ہو جائے گی۔یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نقل کی ہے‘ اور اس کی سند حسن ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط‘ میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
سَأَلْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ ← وعن عبد الله بن عمرو
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13934
سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اے چچا زاد! کیا آپ یہ استطاعت رکھتے ہیں کہ جو فرشتہ آپ کے پاس آتا ہے‘ جب وہ آپ کے پاس آئے‘ تو آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے خدیجہ! ٹھیک ہے‘ سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں: جب ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے‘ تو میں اس وقت آپ کے پاس موجود تھی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میرا ساتھی میرے پاس آ گیا ہے‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی :آپ آ کر میرے دائیں زانوں پر بیٹھ جائیں‘ پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! میں نے کہا: اب آپ منتقل ہو کر میرے بائیں زانوں پر بیٹھ جائیں‘ آپ تشریف فرما ہوئے‘ میں نے آپ سے دریافت کیا: کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! میں نے آپ سے عرض کیا: آپ منتقل ہو کر میری گود میں بیٹھ جائیں‘ آپ بیٹھ گئے‘ میں نے آپ سے دریافت کیا: کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! سیّدہ خدیجہ کہتی ہیں: میں نے کلائیاں چڑھائیں‘ اور چادر اتار دی‘ اور دریافت کیا : کیا اب آپ اسے دیکھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی نہیں! تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ کوئی معزز فرشتہ ہے‘ اللہ کی قسم! یہ شیطان نہیں ہے۔سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ورقہ بن نوفل سے اس بارے میں بات چیت کی‘ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا تھا‘ تو ورقہ نے کہا: اے خدیجہ! تمہاری بات ٹھیک ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے‘ اور اس کی سند حسن ہے۔
قُلْتُ ← «وَعَنْ خَدِيجَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13935
حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: آپ کے پاس (وحی) کیسے آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس وحی اس طرح آتی ہے‘ جیسے گھنٹی کی آواز ہوتی ہے‘ فرشتہ میرے پاس انسان کی شکل میں آ جاتا ہے‘ اور میرے ساتھ بات چیت کرتا ہے‘ اور یہ صورت میرے نزدیک زیادہ آسان ہوتی ہے‘ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے‘ تو میں بات کو محفوظ کر چکا ہوتا ہوں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے‘ اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13936
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پروحی نازل ہوتی تھی‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت سواری پر سوار ہوتے تھے تو اس (سواری) کی گردن ٹوٹنے کے قریب ہو جاتی تھی۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13937
حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں : میں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وحی کی کتابت کیا کرتا تھا‘ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی‘ تو آپ پر شدید کپکپی طاری ہو جاتی تھی‘ اور بہت زیادہ پسینہ آتا تھا‘ جو موتیوں کی مانند ہوتا تھا‘ پھر جب آپ کی یہ کیفت ختم ہو جاتی تھی‘ تو میں کوئی لکڑی‘ یا ٹکڑا لے کر اس پر وحی تحریر کرتا تھا‘ اور آپ وہ املاء کرواتے تھے‘ ایک مرتبانی ایسی کیفیت کے دوران (آپ کازانوں میری ٹانگ پر تھا) تو قریب تھا کہ قرآن کے بوجھ کی وجہ سے میری ٹانگ ٹوٹ جائے‘ یہاں تک کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں اس ٹانگ پر کبھی نہیں چل سکوں گا‘ جب یہ کیفیت ختم ہوئی‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پڑھو! میں نے اسے پڑھا‘ اس دوران جو غلطی ہوتی تھی‘ آپ اسے ٹھیک کروا دیتے تھے‘ پھر میں اسے لے کر لوگوں کے پاس چلا جاتا تھا۔یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے‘ ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں۔
زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on what came in his mission, may God’s prayers and peace be upon him, its generalities, and the revelation of the revelation] · Hadith 13938