مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِي الثُّدَيَّةِ وَأَهْلِ النَّهْرَوَانِ] · حديث 10447
10447 - وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتِ الْخَوَارِجَ، وَسَأَلَتْ مَنْ قَتَلَهُمْ - يَعْنِي أَصْحَابَ النَّهْرِ - فَقَالُوا: عَلِيٌّ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «يَقْتُلُهُمْ خِيَارُ أُمَّتِي، وَهُمْ شِرَارُ أُمَّتِي» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ قِصَّةٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے خوارج کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے دریافت کیا: کس نے انہیں قتل کیا ہے ، تو لوگوں نے بتایا: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ان لوگوں کو میری اُمت کے بہترین لوگ قتل کریں گے ، اور وہ لوگ (یعنی خوارج)میری اُمت کے بدترین لوگ ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، جس میں پورا واقعہ منقول ہے ۔
رَسُولِ اللَّهِ ← عَلِيٍّ، ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتِ الْخَوَارِجَ، وَسَأَلَتْ مَنْ قَتَلَهُمْ يَعْنِي أَصْحَابَ النَّهْرِ
Hadith 10447
