مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوَارِجِ] · حديث 10423
10423 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «تَكُونُ خَلَفٌ بَعْدَ السِّتِّينَ أَضَاعُوا الصَّلَوَاتِ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا، ثُمَّ يَكُونُ خَلَفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ: مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ». قَالَ بَشِيرٌ: فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ: مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ؟ قَالَ: الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كَذَلِكَ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:)میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ ساٹھ (سال)کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو نماز ضائع کریں گے نفسانی خواہشات کی پیروی کریں گے ، اور وہ عنقریب جہنم میں پہنچ جائیں گے پھرایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا قرآن تین قسم کے لوگ پڑھیں گے مومن ، منافق اور فاجر‘‘۔ بشیر نامی راوی کہتے ہیں:)میں نے ولید سے دریافت کیا: ان تین قسم کے لوگوں سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: منافق سے مراد وہ شخص ہے جو اس کا انکار کرتا ہو ، فاجر سے مراد وہ شخص ہے جو اس کا معاوضہ کھاتا ہو اورمومن سے مراد وہ شخص ہے جو اس پر ایمان رکھتا ہو۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،
Hadith 10423
