مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوَارِجِ] · حديث 10411
10411 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يُسِيئُونَ الْأَعْمَالَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ". قَالَ يَزِيدُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: " يُحَقِّرُ أَحَدُكُمْ عَمَلَهُ مَعَ عَمَلِهِمْ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ، كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ". فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ أَكْثَرُ، وَأَنَا أَسْمَعُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:)میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’میری اُمت میں کچھ لوگ نکلیں گے جن کے اعمال بُرے ہوں گے وہ قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، یزید کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے عمل کو ان لوگوں کے عمل کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا وہ لوگ اہل اسلام کو قتل کریں گے جب وہ خروج کریں گے ، تو تم انہیں قتل کرنا پھر اگر وہ نکلیں گے تو تم انہیں قتل کرنا، پھر اگر وہ نکلیں گے تو تم انہیں قتل کرنا کیونکہ جو شخص انہیں قتل کرے گا اس کے لئے مبارک باد ہے ، اور جس شخص کو قتل کریں گے اس کے لئے بھی مبارکباد ہے جب بھی ان میں سے کوئی گروہ نکلے گا اللہ تعالیٰ اسے ختم کروا دے گا‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات بیس مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ دہرائی اور میں یہ بات سن رہا تھا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابو جناب ہے اور وہ مدلس ہے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ
Hadith 10411
