مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوَارِجِ] · حديث 10399
10399 - عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَضَى الصَّلَاةَ، وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟ ". فَقَامَ رَجُلٌ، فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ، فَاخْتَرَطَ سَيْفَهَ وَهَزَّهُ، وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟!. ثُمَّ قَالَ: " مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا، فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ، فَهَزَّهُ حَتَّى أُرْعِدَتْ يَدُهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَتَلْتُمُوهُ لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ غَيْرِ بَيَانٍ شَافٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو سجدے کی حالت میں تھا آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے آپ نے نماز ادا کر لی جب آپ واپسی پر اس کے پاس سے گزرے تو وہ اس وقت بھی سجدے کی حالت میں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا: کون اسے قتل کرے گا ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے اپنی آستینیں چڑھائیں تلوار نکالی اسے لہرایا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ میں ایسے شخص کو کیسے قتل کر سکتا ہوں جو سجدے کی حالت میں ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون اسے قتل کرے گا ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں ۔ انہوں نے اپنی آستینیں چڑھائیں تلوار کھینچی اسے لہرایا لیکن پھر ان کے ہاتھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔انہوں نے عرض کی :اے اللہ کے نبی! میں ایسے شخص کو کیسے قتل کر سکتا ہوں جو سجدے کی حالت میں ہے اوراس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تم لوگ اسے قتل کر دیتے تو یہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے کسی شافی بیان کے بغیرنقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
أَبِي بَكْرَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of fighting the people of a prostitute] › Chapter of what came in the outside] · Hadith 10399
