مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابٌ فِيهِ ذِكْرُ الْأَنْبِيَاءِ] ‹ [بَابُ ذِكْرِ مُوسَى الْكَلِيمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 13783
13783 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا، قَالَ: فَأَتَى مُوسَى فَلَطَمَهُ، فَفَقَأَ عَيْنَيْهِ، فَأَتَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا رَبِّ، عَبْدُكَ مُوسَى فَقَأَ عَيْنِي، وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَعَتَبْتُ بِهِ - قَالَ يُونُسُ: لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ - قَالَ لَهُ: اذْهَبْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ: لِيَضَعَ يَدَهُ عَلَى جِلْدٍ أَوْ مَسْكِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُهُ سَنَةٌ. فَأَتَاهُ فَقَالَ: مَا بَعْدَ هَذَا؟ قَالَ: الْمَوْتُ. قَالَ: فَالْآنَ. قَالَ: فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ - قَالَ يُونُسُ: فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، فَكَانَ يَأْتِي النَّاسَ خُفْيَةً» - ". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’پہلے ملک الموت علیہ السلام لوگوں کے پاس عیاں طور پر آ جایا کرتا تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں طمانچہ رسید کیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں‘ وہ پروردگار کے پاس آئے اور بولے: اے میرے پروردگار! تیرے بندے موسیٰ نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے‘ اگر تو نے اسے عزت عطا نہ کی ہوئی ہوتی تو میں اسے سزا دیتا‘ یہاں ایک راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے‘ پروردگار نے ان سے فرمایا: تم میرے بندے کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اپناہاتھ کسی چمڑے پررکھے‘ یا کسی بیل کی کھال پر رکھے‘ تو ہر ایک بال‘ جواس کے ہاتھ کے نیچے آئے گا‘ اس کے بدلے میں اسے ایک سال مل جائے گا‘ ملک الموت‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے (اور یہ بات بیان کی)‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا: موت ہو گی‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: پھر ابھی (تم میری روح قبض) کر لو! تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک چیز سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی‘‘۔ یہاں یونس نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں:’’الله تعالیٰ نے ملک الموت کی آنکھ اسے واپس کر دی تھی اور اس کے بعد وہ لوگوں کے پاس پوشیدہ طور پر آنے لگا‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں :) میں یہ کہتا ہوں :’’صحیح‘‘ میں‘ اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter of the remembrance of Musa al-Kaleem, may God bless him and grant him peace] · Hadith 13783
