ابو طفیل بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ہے‘ اور یہ چیز سنت ہے‘ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ان لوگوں نے ٹھیک کہا ہے‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب مناسک حج کا حکم دیا گیا‘ تو سعی والی جگہ پر‘ شیطان ان کے سامنے آیا‘ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دوڑ کا مقابلہ کیا‘ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے‘ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے‘ تو وہاں شیطان ان کے سامنے آیا‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں‘ تو وہ چلا گیا‘ پھر وہ جمرہ وسطی کے پاس ان کے سامنے آیا‘ انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں‘ راوی کہتے ہیں: وہاں انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا (تاکہ انہیں قربان کریں) حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جسم پر سفیدقمیض موجود تھی‘ انہوں نے کہا: اے میرے ابا جان! میرے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے‘ جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں‘ تو آپ اسے اتروا لیں‘ تاکہ آپ اس میں مجھے کفن دے سکیں‘ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے اتارنے لگے تھے کہ اسی دوران پیچھے سے پکار کر کہا گیا:”اے ابراہیم علیہ السلام!تم نے اپنے خواب کو سچ ثابت دکھایا ہے‘‘۔ ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہاں مڑ کے دیکھا‘ تو وہاں سفید رنگ کا خوبصورت آنکھوں والا دنبہ موجودتھا‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے‘ جو اس سے پہلے سےحج سے متعلق باب میں گزر چکی ہے۔یہ روایت امام احمدنے نقل کی ہے‘ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں‘ صرف ابو عاصم غنوی کا معاملہ مختلف ہے‘ اور وہ ثقہ ہے۔ اس سے پہلے ان صحابی کے حوالے سے ایک طریق گزر چکا ہے‘ جسے امام احمد اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے‘ اور اس میں یہ بات ذکر ہے‘ جن کو ذبح کیا گیا تھا وہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13759
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک الله تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ حمانی ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
عبد الله -يعني ابن مسعود-
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13760
حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے یہ فرمایا کرتے تھے: ’’قیامت کے دن تمام انبیاء یوں ہوں گے کہ ان میں سے دو افراد‘ ایک دوسرے سے کے خلیل ہوں گے‘ باقی نہیں ہوں گے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: اس دن‘ ان میں سے الله تعالیٰ کے خلیل‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13761
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معراج کروائی گئی‘ تو انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک عورت کے ساتھ گناه کا ارتکاب کر رہا تھا‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی‘ تو وہ ہلاکت کا شکار ہو گیا‘ پھر انہوں نے ایک اور شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھا‘ تو انہوں نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی‘ تو الله تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: یہ میرا بندہ ہے‘ اور اس نے لوٹ کے میری طرف آنا ہے‘ تین صورتیں ہیں‘ یا تو یہ ہے کہ یہ توبہ کر لے گا اور میں اس کی توبہ قبول کر لوں گا‘ یا یہ ہے کہ یہ مجھ سے مغفرت طلب کرے گا‘ تو میں اس کی مغفرت کر دوں گا‘ یا یہ ہے کہ اس کی پشت میں سے وہ لوگ ملیں گے‘ جو میری عبادت کریں گے‘ اے ابراہیم ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے اسماء میں سے‘ ایک اسم یہ ہے کہ میں ’’صبور‘‘ ہوں (یعنی برداشت کرنے والا ہوں)‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابو علی لبہی ہے‘ اور وہ متروک ہے۔
جَابِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13762
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جنت میں کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ایک عمل ہے‘ جس میں کوئی دراڑ اور کوئی کمزوری نہیں ہے‘ الله تعالیٰ نے وہ اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کے لئے تیار کیا ہے‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے‘ اور ان دونوں کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں.
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13763
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے انبیاء دکھائے گئے‘ تو میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مشابہت رکھتا ہوں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داود کے حوالے سے نقل کی ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13764
سیده عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’مخلوق میں‘ سب سے پہلے‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کولباس پہنایا جائے گا‘‘۔ راوی کہتے ہیں: یعنی قیامت کے دن (لباس پہنایا جائے گا)۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابو سلیم ہے‘ اور وہ مدلس ہے۔
النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13765
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا‘‘ تو انہوں نے کہا: ’’اے اللہ! بے شک تو آسمان میں ایک ہے‘ اور میں زمین میں ایک فرد ہوں‘ جو تیری عبادت کرتا ہے‘‘۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر بن حفص ہے‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے‘ وہ کہتے ہیں: یہ غلطی کرتا ہے‘ اور دوسروں کے برخلاف روایت نقل کرتا ہے‘ جنہوں نے اسے ضعیف کہا ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13766
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’حضرت داؤد نے کہا: میں تجھ سے اپنے آباؤ اجداد کے وقت کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں (وہ آباؤ اجدار) حضرت ابراہیم علیہ السلام‘ حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام تو پروردگار نے فرمایا: جہاں تک ابراہیم کا تعلق ہے‘ تو اسے میں نے آگ میں ڈال دیا‘ تو اس نے میری وجہ سے صبر سے کام لیا اور اس آزمائش کا تمہیں سامنا نہیں کرنا پڑا‘ اور جہاں تک اسحاق کا تعلق ہے‘ تو اس نے اپنے آپ کو پیش کر دیا‘ تاکہ ذبح کر دیا جائے‘ تو اس نے میری خاطر صبر سے کام لیا‘ تو تمہیں اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ جہاں تک یعقوب کاتعلق ہے‘ تو يوسف اسے دور ہو گیا تھا‘ یہ ایسی آزمائش ہے‘ جو تمہیں لاحق نہیں ہوئی ‘‘۔یہ روایت امام بزار نے ابو سعید کی علی بن زید سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے‘ اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اورعلی بن زید نامی راوی ضعیف ہے‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔
الْعَبَّاسُ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13767
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا: لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’حضرت یوسف علیہ السلام جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے صاحبزادے ہیں‘ جو حضرت اسحاق ذبیح اللہ کے صاحبزادے تھے‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ بقیہ نامی راوی مدلس ہے‘ اور ابو عبیدہ نامی راوی نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے سماع نہیں کیا ہے۔
النَّبِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ← عبد الله -يعني ابن مسعود-
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13768
ابو احوص بیان کرتے ہیں : اسماء بن خارجہ نے ایک شخص کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا: میں معزز بزرگوں کابیٹا ہوں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’وہ تو حضرت یوسف بن یعقوب بن اسحاق ذبیح الله بن ابراہیم خلیل اللہ تھے‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے ’’موقوف‘‘ روایت کے طور پر دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں‘ تاہم امام طبرانی کے مشائخ سے میں واقف نہیں ہوں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13769
حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں :عرض کی گئی : یا رسول اللہ!سردار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم (علیہم السلام)“۔لوگوں نے دریافت کیا: آپ کی اُمت میں سردار کون ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جی ہاں !وہ شخص جسے حلال مال دیا گیا ہو اور نرمی عطا کی گئی ہو‘ وہ غریب کو قریب رکھے اور لوگوں کو اس سے شکایات کم ہوں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابو ہرمز ہے‘ اور وہ متروک ہے۔
قِيلَ ← وعن ابن عباس
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13770