مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ بَابُ الْبِرِّ بَعْدَ الْمَوْتِ] · حديث 13425
13425 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ بَرَّ قَسَمَهُمَا وَقَضَى دَيْنَهُمَا وَلَمْ يَسْتَسِبَّ لَهُمَا، كُتِبَ بَارًّا وَإِنْ كَانَ عَاقًّا فِي حَيَاتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَبَرَّ قَسَمَهُمَا وَيَقْضِي دَيْنَهُمَا وَاسْتَسَبَّ لَهُمَا، كُتِبَ عَاقًّا وَإِنْ كَانَ بَارًّا فِي حَيَاتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص اُن دونوں (یعنی ماں باپ) کی قسم کو پورا کرواتا ہے اُن دونوں کے قرض کو ادا کرتا ہے اور ان دونوں کوبُرا کہے جانے کا سبب نہیں بنتا ہے‘ اسے نیکوکار نوٹ کیا جاتا ہے‘ اگرچہ وہ (شخص) اُن (ماں باپ)کی زندگی میں نافرمان ہی رہا ہو اور جو شخص‘ ان کی قسم پوری نہیں کرواتا‘ ان کا قرض ادا نہیں کرتا‘ اُن دونوں کو برا کہے جانے کا سبب بنتا ہے‘ اُسے (ماں باپ کا)نافرمان نوٹ کیا جاتا ہے‘ اگرچہ وہ اُن کی زندگی میں ان کا فرمانبردار رہا ہو‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ
Hadith 13425
