مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي الْبِرِّ] · حديث 13413
13413 - وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كَانَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ فِي غَيْثِ السَّمَاءِ إِذْ مَرُّوا بِغَارٍ فَقَالُوا: لَوْ آوَيْتُمْ إِلَى هَذَا الْغَارِ، فَآوَوْا إِلَيْهِ فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ إِذْ وَقَعَ حَجَرٌ مِنَ الْجَبَلِ مِمَّا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، حَتَّى سَدَّ الْغَارَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّكُمْ لَنْ تَجِدُوا [شَيْئًا] خَيْرًا مِنْ أَنْ يَدْعُوَ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ بِخَيْرِ عَمَلٍ عَمِلَهُ قَطُّ. فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ [إِنِّي] كُنْتُ رَجُلًا زَرَّاعًا وَكَانَ لِي أُجَرَاءُ، فَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يَعْمَلُ كَعَمَلِ رَجُلَيْنِ، فَأَعْطَيْتُهُ أَجْرَهُ كَمَا أَعْطَيْتُ الْأُجَرَاءَ، فَقَالَ: أَعْمَلُ عَمَلَ رَجُلَيْنِ وَتُعْطِينِي عَمَلَ رَجُلٍ وَاحِدٍ؟ فَانْطَلَقَ وَغَضِبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ عِنْدِي، فَبَذَرْتُهُ عَلَى حِدَتِهِ فَأُضْعِفَ، ثُمَّ بَذَرْتُهُ فَأُضْعِفَ، ثُمَّ بَذَرْتُهُ فَأُضْعِفَ، حَتَّى كَثُرَ الطَّعَامُ فَكَانَ أَكْدَاسًا، فَاحْتَاجَ الرَّجُلُ فَأَتَانِي، فَسَأَلَنِي أَجْرَهُ فَقُلْتُ: انْطَلِقْ إِلَى تِلْكَ الْأَكْدَاسِ فَإِنَّهَا أَجْرُكَ. فَقَالَ: تَظْلِمُنِي وَتَسْخَرُ بِي؟ قُلْتُ: مَا أَسْخَرُ بِكَ. فَانْطَلَقَ فَأَخَذَهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ خَشْيَتِكَ وَابْتِغَاءِ وَجْهِكَ، فَاكْشِفْ عَنَّا. قَالَ: الْحَجَرُ فَضَّ، فَانْفَرَجَتْ مِنْهُ فُرْجَةٌ عَظِيمَةٌ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’تین آدمی بارش میں چلتے ہوئے جا رہے تھے‘ انہوں نے کہا : اگر تم لوگ اس غار میں پناہ لے لو تو مناسب ہو گا‘ پھر وہ اس غار کے اندر چلے گئے‘ ابھی وہ اس کے درمیان موجود تھے کہ اسی دوران پہاڑ پر سے ایک پتھر گرا‘ یہ وہ پتھر تھا‘ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے گرا تھا‘ یہاں تک کہ اس نے غار کے منہ کو بند کر دیا‘ تو ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا :تم لوگ اب کوئی بھلائی کی چیز نہیں پاؤ گے‘ تم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے اس بہترین عمل کے حوالے سے دعا کرنی چاہیے‘ جو اُس نے کبھی کیا ہو۔ تو اُن میں سے ایک نے کہا: اے اللہ ! میں کھیتی باڑی کرنے والا شخص تھا‘ میرے مزدور تھے‘ ان میں ایک شخص ایسا تھا جو دو آدمیوں کے برابر کام کرتا تھا‘ میں نے اس کو اتناہی معاوضہ دیا جتنا میں نے دوسروں کو دیا تھا‘ تو اس نے کہا: میں نے دو آدمیوں جتنا کام کیا ہے اور تم مجھے ایک آدمی کے کام جتنا معاوضہ دے رہے ہو‘ وہ غصے میں آ کے چلا گیا اور اس نے اپنا معاوضہ میرے پاس چھوڑ دیا‘ میں نے اسے الگ طور پر کھیتی باڑی میں خرچ کیا تو وہ کئی گنا ہو گیا‘ پھر میں نے اسے استعمال کیا تو وہ دگنا ہو گیا‘ پھر میں نے اسے خرچ کیا تو وہ دگنا ہو گیا‘ یہاں تک کہ اناج بہت سا ہو گیا اور اس کے ڈھیر لگ گئے‘ پھر و ہ شخص محتاج ہوا تو وہ میرے پاس آیا اور اس نے اپنا معاوضہ مجھ سے مانگا تو میں نے کہا: تم ان ڈھیروں کے پاس جاؤ‘ وہ تمہارا معاوضہ ہے‘ اس نے کہا: ایک تو تم نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے پھر میرا مذاق بھی اڑا رہے ہو‘ میں نے کہا: میں تمہارا مذاق نہیں اُڑا رہا‘ وہ شخص گیا اور اس نے ان کو وصول کر لیا‘ اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیرے خوف کی وجہ سے اور تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ‘تم ہمیں کشادگی نصیب فرما دے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ پتھر تھوڑ اسا سرک گیا اور اس کی وجہ سے ایک بڑا سوراخ بن گیا۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مکمل روایت کے طورپر نقل کی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › A gate from it in the wilderness] · Hadith 13413
