مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ [بَابُ شُكْرِ الْمَعْرُوفِ وَمُكَافَأَةِ فَاعِلِهِ] · حديث 13641
13641 - وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنْ أُتِيَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُكَافِئْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ، فَإِنَّ مَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يُعْطَ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتی ہیں:’’ جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے اسے اس کا بدلہ دینا چاہئے‘ اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کا ذکر کرنا چاہیے کیونکہ جو شخص اس کا ذکر کر دے گا‘ وہ اس کا شکریہ ادا کر دے گا‘ اور جو شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرے‘ جو اسے نہ دی گئی ہو‘ تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابو خضر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے‘ امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › [Chapter of thanksgiving and rewarding for the one who does it] · Hadith 13641
