مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ] · حديث 13401
13401 - وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ: " أُمُّكَ حَيَّةٌ؟ ". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " الْزَمْ رِجْلَهَا فَثَمَّ الْجَنَّةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت طلحہ بن معاویہ سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ میں نے عرض کی: یا رسول الله! میں اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینا چاہتا ہوں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا :تمہاری والدہ زندہ ہیں؟ میں نے جواب دیا جی ہاں !نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :تم اُن کے پاؤں کے پاس رہو!وہیں جنت ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ مدلس ہے‘ اس کے حوالے سے یہ محمد بن طلحہ سے منقول ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ: ← وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ السُّلَمِيِّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › [Chapter on what came in righteousness and the right of parents] · Hadith 13401
