مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ [بَابُ حَقِّ الْجَارِ وَالْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ] · حديث 13545
13544 - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ جَارِي عَلَيَّ؟؟ قَالَ: " «إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ، وَإِنْ مَاتَ شَيَّعْتَهُ، وَإِنِ اسْتَقْرَضَكَ أَقْرَضْتَهُ، وَإِنْ أَعْوَزَ سَتَرْتَهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ هَنَّأْتَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ عَزَّيْتَهُ، وَلَا تَرْفَعْ بِنَاءَكَ فَوْقَ بِنَائِهِ فَتَسُدَّ عَلَيْهِ الرِّيحَ، وَلَا تُؤْذِهِ بِرِيحِ قِدْرِكَ إِلَّا أَنْ تَغْرِفَ لَهُ مِنْهَا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول الله! میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اگر وہ بیمار ہو جائے تو تم اس کی عیادت کرو‘ اگر وہ انتقال کر جائے تو تم جنازے کے ساتھ جاؤ‘ اگر وہ تم سے قرض مانگے‘ تو تم اسے قرض دو‘ اگر اس کی حالت خراب ہو‘ تو تم اُس کی پردہ پوشی کرو‘ اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو تو تم اُسے مبارکبا دو‘ اگر اسے کوئی مصیبت لا حق ہو تو تم اس سے تعزیت کرو‘ تم اپنے تعمیر کو اس کی تعمیر سے بلند کر کے اس کی ہوا کو بند نہ کر دو اور تم اپنی ہنڈیا کی بو کے ذریعے اسے اذیت نہ پہنچاؤ؟ البتہ اگر تم اپنے مال (یا اس ہنڈیا)میں سے کچھ اسے دے دو تو حکم مختلف ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی ابو بکر ہذلی ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
قُلْتُ ← وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › [Chapter of the right of the neighbor and the will of the neighbor] · Hadith 13545
