مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ غَصَبَ أَرْضًا] · حديث 6882
6882 - وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَيَّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ، ثُمَّ يُطَوَّقُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَقَالَ: «ثُمَّ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جو شخص ظلم کے طور پر، ایک بالشت زمین ہتھیا لے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس بات کا پابند کرے گا کہ وہ زمین کو کھودے، یہاں تک کہ ساتویں زمین کی آخری حد تک پہنچ جائے، اور پھر اس زمین کا طوق قیامت کے دن تک کے لئے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے، جو مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہے اس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: ’’پھر قیامت کے دن اسے طوق پہنا دیا جائے گا‘‘۔
يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [A door in the way of those who seized the land] · Hadith 6882
