مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ رَدَّ عَبْدًا آبِقًا] · حديث 6858
6858 - عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ بِأَبَاقٍ مِنْ عَبِيدِ الْيَمَنِ فَقَالَ: الْأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ. قَالَ: قُلْتُ: أَمَّا الْأَجْرُ، فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْغَنِيمَةُ؟ قَالَ: أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا عَنْ كُلِّ رَأْسٍ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو رِيَاحٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابوعمروشیبانی بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یمن سے مفرور غلام لے کے آیا، تو انہوں نے فرمایا: اجر بھی ملے گا اور غنیمت بھی ملے گی، راوی کہتے ہیں: میں نے کہا جہاں تک اجر کا معاملہ ہے، تو اس کا تو ہمیں پتہ ہے، غنیمت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہر ایک غلام کی طرف سے چالیس درہم (انعام ملے گا)۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوریاح ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
أربعين درهما ← قلت أما الأجر فقد عرفناه فما الغنيمة ← الأجر والغنيمة ← أَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ بِأَبَاقٍ مِنْ عَبِيدِ الْيَمَنِ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › Chapter on who turns back a slave to keep a slave] · Hadith 6858
