مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6750
6750 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ أَسْعَدَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ عَلَى بِنْتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ضَبَابٍ وَتُرْمُسٍ وَسَمْنٍ، فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ} [الممتحنة: 8] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَجَوَّدَهُ، فَقَالَ: قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى. وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ؛ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قتیلہ بنت عبدالعزی ٰبن اسعد بن مالک بن حسل، اپنی صاحبزادی سیّدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تحائف لے کے آئیں، جن میں گوہ، ترمس (اناج کی ایک قسم جو کڑوا ہوتا ہے) اور گھی شامل تھا، سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے ان کا تحفہ قبول کرنے سے، اور انہیں اپنے گھر میں داخل کرنے سے انکار کر دیا، سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں نے نہیں روکتا ہے، جو تمہارے ساتھ دین کے بارے میں جنگ نہیں کرتے ہیں......‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون کا ہدیہ قبول کر لیں اور اسے اپنے گھر میں آنے دیں۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، انہوں نے اسے عمدہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: قتیلہ بنت عبد العزیٰ آگئیں .......... اس روایت کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے، جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہاہے۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › Chapter · Hadith 6750
