مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ بَابُ الْهَدِيَّةِ] · حديث 6714
6714 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَتَهَادَوْنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صِلَةً بَيْنَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قَدْ أَسْلَمَ النَّاسُ لَتَهَادَوْا مِنْ غَيْرِ فَاقَةٍ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَقَالَ فِي الْكَبِيرِ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِالْهَدِيَّةِ صِلَةً بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ: " لَوْ قَدْ أَسْلَمَ النَّاسُ تَهَادَوْا مِنْ غَيْرِ جُوعٍ» ". وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ؛ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مسلمان باہمی تعلق کی وجہ سے ایک دوسرے کو تحفے دیا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر سب لوگ اسلام قبول کر لیں، تو وہ فاقہ کا شکار ہوئے بغیر ایک دوسرے کو تحفے دے سکتے ہیں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحفے دینے کا حکم دیتے تھے، اور آپ فرماتے تھے:’’اگر سب لوگ اسلام قبول کرلیں‘‘ تو وہ بھوکے رہے بغیر ایک دوسرے کو تحفے دے سکیں گے‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے، جسے ایک جماعت نے ثقہ قراردیا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › Section of the gift] · Hadith 6714
