مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّيْنِ] · حديث 6630
6630 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ «أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيِيَ، ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ثُمَّ أُحْيِيَ] لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ لَيْسَ ثَمَّةَ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ، إِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.
حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے اور پھر اسے زندہ کر دیا جائے،پھروہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، پھر اسے زندہ کردیا جائے تو وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوگا، جب تک اس کی طرف سے اس کا قرض ادا نہیں کردیا جاتا، کیونکہ وہاں سونا اور چاندی نہیں ہوگا، وہاں نیکیاں اور برائیاں ہوں گی‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے، جسے ابن حبان نے اور امام حاکم نے ثقہ قرار دیا ہے، جبکہ ابن عدی نے اسے ضعیف کہا ہے۔
النَّبِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، أَنَّهُ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter on what came in debt] · Hadith 6630
