مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ الْبَيْعِ إِلَى أَجَلٍ] · حديث 6618
6618 - وَلِأَنَسٍ فِي الطَّبَرَانِيِّ الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارِ - بِنَحْوِ الطَّبَرَانِيِّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: هُوَ الَّذِي لَا زَرْعَ لَهُ، وَلَا ضَرْعَ - قَالَ: «بَعَثَ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى يَهُودَ أَسْتَسْلِفُ إِلَى الْمَيْسَرَةِ. فَقَالَ: أَيُّ مَيْسَرَةٍ لَهُ؟ هُوَ الَّذِي لَا أَصْلَ لَهُ وَلَا فَرْعَ! فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَمَا لَوْ أَعْطَانَا لَأَدَّيْنَا إِلَيْهِ» ". وَفِيهِ رَاوٍ يُقَالُ لَهُ: جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ. قَالَ: وَلَيْسَ بِالْجُعْفِيِّ. وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم اوسط اور امام بزار نے امام طبرانی کی روایت کی مانند روایت نقل کی ہے، راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے مجھے یہودیوں کے پاس بھیجا، تا کہ میں گنجائش میسر ہونے تک ان سے ادھار کے طور پر کوئی چیز لے لوں، تو ایک شخص نے کہا: انہیں کہاں سے گنجائش ملے گی؟ وہ تو ایسے فرد ہیں جن کی نہ تو کوئی اصل ہے اور نہ ہی کوئی فرع ہے میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے، اگر وہ ہمیں دے دیتا تو ہم نے (اس کی رقم) ادا کر دینی تھی‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام جابر بن یزید بیان کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں: یہ جعفی نہیں ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
هُوَ الَّذِي لَا زَرْعَ لَهُ، وَلَا ضَرْعَ ← الْبَزَّارِ بِنَحْوِ الطَّبَرَانِيِّ إِلَّا أَنَّهُ ← وَلِأَنَسٍ فِي الطَّبَرَانِيِّ الْأَوْسَطِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter of the sale to a term] · Hadith 6618
