مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6570
6570 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُرَخِّصُ فِي الدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَالدِّينَارِ بِالدِّينَارَيْنِ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَقِيَ عُمَرَ، وَعَلِيًّا، وَأَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ فَلَمَّا رَجَعَ رَأَيْتُهُ يَطُوفُ بِالصَّيَارِفَةِ، وَيَقُولُ: وَيَلْكُمُ يَا مَعْشَرَ النَّاسِ، لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَشْتَرُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَلَا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سعد بن ایاس بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ دو درہموں کے عوض میں ایک درہم اور دو دینار کے عوض میں ایک دینارکالین دین کرنے کی رخصت دیا کرتے تھے، پھر وہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے، وہاں ان کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر اصحاب سے ہوئی، ان حضرات نے ایسا کرنے سے منع کیا، جب وہ واپس آئے، تو میں نےانہیں دیکھا کہ وہ بیع صرف کرنے والوں کا چکرلگارہےتھے،اوریہ فرما رہے تھے : تمہاراستیا ناس ہو! اے لوگو!ں کے گروہ! تم سود نہ کھاؤ اور دو درہموں کے عوض میں ایک درہم، یا دودینار کے عوض میں ایک دینار نہ خریدو۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › Chapter · Hadith 6570
