مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ بِالطَّعَامِ] · حديث 6558
6558 - وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعَدِيَّ، وَابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي بِالدِّينَارِ بِالدِّينَارَيْنِ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ، وَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا يَعْرِفُ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا يَا أَبَا أُسَيْدٍ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَصَاعُ حِنْطَةٍ بِصَاعِ حِنْطَةٍ، وَصَاعُ شَعِيرٍ بِصَاعِ شَعِيرٍ، وَصَاعُ مِلْحٍ بِصَاعِ مِلْحٍ، لَا فَضْلَ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَقُولُهُ بِرَأْيِي، وَلَمْ أَسْمَعْ فِيهِ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
ابوز بیر مکی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابو اُسید ساعدی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو سنا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ دودینار کے عوض میں ایک دینار کے ( کے لین دین جائز ہونے کا) فتویٰ دیتے تھے، حضرت ابواُسید رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سخت کلمات استعمال کیے، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابواُسید! میں یہ گمان نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرے رشتے کو جانتے ہوئے میرے بارے میں اس طرح کے کلمات کہے گا، تو حضرت ابواُسید رضی اللہ عنہ فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئےسناہے: ’’دینار کے عوض میں دینار کالین دین، درہم کے عوض میں درہم کالین دین، گندم کے ایک صاع کے عوض میں گندم کا ایک صاع، جو کے ایک صاع کے عوض میں جو کا ایک صاع، نمک کے ایک صاع کے عوض میں نمک کا ایک صاع (لین دین کیا جائےگا) ان دونوں کے درمیان کوئی اضافی ادائیگی نہیں ہوگی‘‘۔ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ فتویٰ میں اپنی رائے کے حوالے سے دیا کرتا تھا، میں نے اس بارے میں کوئی روایت نہیں کی تھی۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے ۔
أَبُو أُسَيْدٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← لِي مِثْلَ هَذَا يَا أَبَا أُسَيْدٍ، ← ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا يَعْرِفُ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو أُسَيْدٍ، وَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ، ← أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعَدِيَّ، وَابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي ← أَبِي الزبير المكي
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › Chapter of selling food with food] · Hadith 6558
