مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابٌ فِي الْخَمْرِ وَثَمَنِهَا] · حديث 6402
6402 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ «أَنَّ الدَّارِيَّ كَانَ يُهْدِي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ عَامٍ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَلَمَّا كَانَ عَامُ حُرِّمَتْ جَاءَ بِرَاوِيَةٍ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ قَالَ: " هَلْ شَعَرْتَ أَنَّهَا حُرِّمَتْ بَعْدَكَ؟ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَبِيعُهَا، فَأَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ؛ انْطَلَقُوا إِلَى مَا حُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ شُحُومِ الْغَنَمِ، وَالْبَقَرِ، فَأَذَابُوهُ، فَجَعَلُوهُ بِمِثَالِهِ فَبَاعُوا بِهِ مَا يَأْكُلُونَ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ، وَثَمَنَهَا حَرَامٌ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ، وَثَمَنَهَا حَرَامٌ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ، وَثَمَنَهَا حَرَامٌ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا عَنِ ابْنِ غَنْمٍ أَنَّ الدَّارِيَّ، وَفِيهِ شَهْرٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: داری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہر سال ایک شراب کا ایک مشکیزہ تحفے میں پیش کیا کرتا تھا جب وہ سال آیا جب اسے حرام قرار دے دیا گیا تو وہ صاحب مشکیزہ لے کےآئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو آپ ہنس پڑے اور آپ نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ ہے کہ تمہارے بعد اسے حرام قرارد ےدیا گیا ہے؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے فروخت نہ کر دوں اور اس کی قیمت کے ذریعے نفع حاصل کرلوں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت کی ہے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت کی ہے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت کی ہے کہ وہ اس چیز کی طرف گئے کہ جب ان پر بکریوں اور گائے کی چر بی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اس کو پگھلا لیا اور پھر اس کو اس جیسا بنا کے اسے فروخت کرنے لگے اور اس کی قیمت کھانے لگے‘ شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔یہ روایت امام احمد نے اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے کہ داری کا یہ معاملہ پیش آیا تھا اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس راوی کے بارے میں کلام پا یا جا تا ہے ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter on wine and its price] · Hadith 6402
