مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابٌ فِي الْبَيْعِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَبَيْعِ الْمُزَايَدَةِ] · حديث 6378
6378 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلَّا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: إِلَّا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیع مزایدہ کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سنا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کےسودے پرسودا کرے البتہ مال غنیمت اور وراثت کا حکم مختلف ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں کہتاہوں یہ روایت ’’صحیح‘‘ میں مذکو ر ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں:’’البتہ مال غنیمت اور وراثت کا حکم مختلف ہے‘‘ ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کر دہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ ← رجلا، يسأل ابن عمر ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter in the sale of the sale of his brother and the sale of the auction] · Hadith 6378
