مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ باب · حديث 6069
6069 - وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّهَا «أُهْدِيَ لَهَا ضَبٌّ فَأَتَاهَا رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِهَا فَأَمَرَتْ بِهِ فَصُنِعَ، ثُمَّ قَرَّبَتْهُ إِلَيْهِمَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا يَأْكُلَانِ فَرَحَّبَ بِهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ لِيَأْكُلَ فَلَمَّا أَخَذَ اللُّقْمَةَ إِلَى فِيهِ قَالَ: " مَا هَذَا؟ ". قَالَتْ: ضَبٌّ أُهْدِيَ لَنَا. قَالَتْ: فَوَضَعَ اللُّقْمَةَ وَأَرَادَ الرَّجُلَانِ أَنْ يَطْرَحَا مَا فِي أَفْوَاهِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا تَفْعَلَا إِنَّكُمْ - أَهْلَ نَجْدٍ - تَأْكُلُونَهَا، وَإِنَّا - أَهْلَ تِهَامَةَ - نَعَافُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ مَعَ ضَعْفِهِ.
سیّدہ میمونہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: انہیں گوہ تحفے کے طور پر دی گئی ان کی قوم کے دوافرادان کے پاس آئےسیّدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کےحکم تحت اس کاگوشت تیارکیاگیاپھرسیّدہ میمونہ رضی اللہ عنہ نےان دونوں صاحبان کےسامنےوہ گوشت رکھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے یہ دونوں صاحبان کھاناکھار ہےتھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دووں کو خوش آمدید کہا پھر آپ بھی کھانے میں شریک ہونے لگے جب آپ لقمہ اپنے منہ کی طرف لے کے گئے تو آپ نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ سیّدہ میمونہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یہ گوہ ہے جو ہمیں تحفے کے طور پر دی گئی ہے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لقمہ رکھ دیا ان دونوں افراد نےیہ ارادہ کیا کہ منہ میں جو چیز موجود ہے وہ بھی نکال دیتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم ایسا نہ کروتم لوگ اہل نجدا سے کھا لیتے ہو اور ہم لوگ اہل تہامہ اسے نہیں کھاتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوز یاد ہے اور وہ ان افراد میں سے ایک ہے جن کے ضعیف ہونے کے باوجودان کی حدیث کونوٹ کیا جائےگا۔
مَيْمُونَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Chapter · Hadith 6069
