مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ باب · حديث 6153
6153 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَدْ خُضِّبَ بِالصُّفْرَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَا هَذَا الْخِضَابُ؟ أَعْرَسْتَ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " أَوْلَمْتَ؟ ". قَالَ: لَا. فَرَمَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ۔ انہوں نے زردرنگ کا خضاب لگایا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: یہ خضاب کس وجہ سے ہے؟ کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے ولیمہ کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےسونے کی ایک گٹھلی ان کی طرف بڑھائی اور فر ما یا :تم ولیمہ کر وخواہ ایک بکری( ذبح کر کے دعوت کرو)۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبد الرحمن بن ابوبکر بن ابوملیکہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔
فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. ← أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، ← لَا، فَرَمَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ بِنَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، ← «أَوْلَمْتَ؟» ← نَعَمْ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «مَا هَذَا الْخِضَابُ، أَعْرَسْتَ؟» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ خَضَبَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Chapter · Hadith 6153
