مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ [بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَالْحَشَرَاتِ] · حديث 6117
6117 - وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ، ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ أَوْ بِقَصَبَةٍ - قَالَ يُونُسُ: بِقَصَبَتِهِ - حَتَّى قَتَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَكَأَنَّمَا قَتَلَ [رَجُلًا] مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَرْفُوعًا، وَمَوْقُوفًا، قَالَ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثِهِ، وَهُوَ مَرْفُوعٌ: " «مَنْ قَتَلَ حَيَّةً أَوْ عَقْرَبًا» ". وَهُوَ فِي مَوْقُوفِ الطَّبَرَانِيِّ. وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابواحوص جشمی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اسی دوران دیوار پر ایک سانپ چلتا ہوا نظر آیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ درمیان میں چھوڑا اور پھر لاٹھی کے ذریعے یا چھٹری کے ذریعے اسے مار کر قتل کر دیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے’’ جس شخص نے سانپ کو مارا‘ اس نے گویا کسی ایسے مشرک شخص کوقتل کیا جس کا خون بہانا حلال تھا‘‘ ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں’’ مرفوع‘‘اور’’موقوف‘‘ ( دونوں طرح سے نقل کی ہے ) امام بزار نے اپنی روایت میں یہ کہا ہے کہ یہ ’’مرفوع‘‘ ہے:”جس شخص نے سانپ یا بچھوکوقتل کیا‘‘۔ تو امام طبرانی کی روایت میں یہ ’’موقوف‘‘ ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
أَبِي الأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › [Chapter of killing of lives and insects] · Hadith 6117
