مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطَّلَاقِ] ‹ [بَابُ الْعِدَّةِ] · حديث 7808
7808 - وَعَنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ امْرَأَةِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّهَا سَمِعَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَتْ أُمُّ الطُّفَيْلِ: «أَفَلَا يَسْأَلُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ؟! تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَوَضَعَتْ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَيَّامٍ، فَأَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ أَتَمَّ مِنْهُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہ جو حضرت ابی نب کعب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ( یا ام ولد ) ہیں وہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بحث کرتے ہوئے سنا تو سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا نے کہا : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سبیعہ اسلمیہ سے کیوں دریافت نہیں کر لیتے جس کے شوہر کا اس وقت انتقال ہوا تھا جب وہ حاملہ تھی اور اس کے کچھ دن بعد اس نے بچے کو جنم دے دیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کی شادی کروا دی تھی۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَخْتَصِمَانِ ← أُمِّ الطُّفَيْلِ، امْرَأَةُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهَا
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Divorce Book] › [Section of the kit] · Hadith 7808
