مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطَّلَاقِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ طَلَّقَ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ] · حديث 7784
7784 - وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي تِسْعًا وَتِسْعِينَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ فَقِيلَ: قَدْ بَانَتْ مِنِّي، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قَدْ أَحَبُّوا أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا، قَالَ: فَمَا تَقَوُّلُ - رَحِمَكَ اللَّهُ؟ فَظَنَّ أَنَّهُ سَيُرَخِّصُ لَهُ، فَقَالَ: ثَلَاثٌ تُبِينُهَا مِنْكَ وَسَائِرُهُنَّ عُدْوَانٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : میں نے اپنی بیوی کو ننانوے طلاقیں دے دی ہیں میں نے اس بارے میں دریافت کیا ، تو مجھے بتایا گیا کہ وہ عورت مجھ سے جدا ہو چکی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں : کہ تمہارے اور اس کے درمیان علیحدگی کروا دیں اس شخص نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے پھر آپ کیا کہتے ہیں ؟ وہ شخص یہ سمجھا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ شاید اسے رخصت دے دیں گے ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین طلاقوں کی بنیاد پر وہ عورت تم سے الگ ہو گئی اور باقی تمام سرکشی شمار ہوں گی۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
فَمَا تَقُولُ رَحِمَكَ اللَّهُ، فَظَنَّ أَنَّهُ سَيُرَخِّصُ لَهُ، ← ابْنُ مَسْعُودٍ: قَدْ أَحَبُّوا أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا، ← إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي تِسْعًا وَتِسْعِينَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ فَقِيلَ: قَدْ بَانَتْ مِنِّي، ← جَاءَ ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ ← عَلْقَمَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Divorce Book] › Chapter by whom more than three divorced) · Hadith 7784
