مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْوَسْوَسَةِ] · حديث 92
92 - وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ - أَوِ ابْنِ الْحَسَنِ - عَنْ عَمِّهِ: «أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوَسْوَسَةِ الَّتِي يَجِدُهَا أَحَدُهُمْ، لَأَنْ يَسْقُطَ مِنْ عِنْدِ الثُّرَيَّا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي الْعَبْدَ فِيمَا دُونَ ذَلِكَ، فَإِذَا عُصِمَ مِنْهُ وَقَعَ فِيمَا هُنَالِكَ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَئِمَّةٌ.
عمارہ بن ابو الحسن ، یا شاید عمارہ بن حسن ، اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس وسوسہ کے بارے میں دریافت کیا، جس کا سامنا ان میں سے کوئی ایک کرتا ہے، کہ اس کا ثریا ستارے سے گر جانا ، اس شخص کے نزدیک اس سے زیادہ پسند یدہ ہو گا کہ وہ شخص اس وسوسے کے حوالے سے کلام کرے، راوی بیان کرتے ہیں :تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ صریح ایمان ہے، بے شک شیطان ، بندے کے پاس اس سے کم معاملے کے بارے میں آتا ہے ، تو جب وہ اس سے محفو ظ ہو جاتا ہے تو پھر کسی دوسرے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ روایت امام بزار نے روایت کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ائمہ ہیں ۔
عَمه أَن النَّاس سَأَلُوا رَسُول الله ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ أَوِ ابْنِ الْحَسَنِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A section in an obsession] · Hadith 92
