مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ] · حديث 56
56 - وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: «غَزَا عُمَارَةُ بْنُ قَرْضٍ اللَّيْثِيُّ غَزَاةً لَهُ، فَمَكَثَ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَجَعَ، حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْأَهْوَازِ سَمِعَ صَوْتَ الْأَذَانِ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِصَلَاةٍ بِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُنْذُ ثَلَاثٍ، وَقَصَدَ نَحْوَ الْأَذَانِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَزَارِقَةِ، فَقَالُوا لَهُ: مَا جَاءَ بِكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ؟ فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ إِخْوَانِي. قَالُوا: أَنْتَ أَخُو الشَّيْطَانِ، لَنَقْتُلَنَّكَ. قَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ مِنِّي بِمَا رَضِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: أَيُّ شَيْءٍ رَضِيَ بِهِ مِنْكَ؟ قَالَ: أَتَيْتُهُ وَأَنَا كَافِرٌ، فَشَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ فَخَلَّى عَنِّي. فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : حضرت عمارہ بن قرض لیثی رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں شریک ہوئے ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا وہ وہاں رہے ، پھر وہ واپس روانہ ہو گئے ، جب وہ اہواز کے قریب پہنچے اور انہوں نے اذان کی آواز سنی ، تو بولے : اللہ کی قسم ! میں نے گزشتہ تین دن سے مسلمانوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا نہیں کی ، وہ اذان کی طرف چل پڑے ، ان کا ارادہ ( باجماعت ) نماز ادا کرنے کا تھا ، لیکن وہ مسجد " ازارقہ "( یعنی خوارج ) کی تھی، ان لوگوں نے حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ سے کہا : اے اللہ کے دشمن ! تم کیوں آئے ہو؟ حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم لوگ میرے بھائی یعنی مسلمان نہیں ہو؟ ان لوگوں نے کہا: تم شیطان کے بھائی ہو ، ہم تمہیں ضرور قتل کر دیں گے ، تو حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم میری طرف سے اس چیز سے راضی نہیں ہو گے ، جس سے اللہ کے رسول راضی ہوئے تھے؟ ان لوگوں نے دریافت کیا: وہ کیا چیز تھی؟ جس کی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ سے راضی ہوئے تھے؟ حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ نے بتایا :جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں کافر تھا، پھر میں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک آپ ، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے چھوڑ دیا تھا۔ ( راوی کہتے ہیں : ) لیکن ان خوارج نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ،
Hadith 56
