مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ] ‹ باب · حديث 6001
6001 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَضَاحِيِّ. أَلَا وَإِنَّ الْأَوْعِيَةَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا، وَلَا تُحَرِّمُهُ. أَلَا وَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ ". زَادَ عَبْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: " أَلَا وَإِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ» ". قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ: النَّهْيُ عَنْ لَحْمِ الْأَضَاحِيِّ وَالْأَوْعِيَةِ مِنْ غَيْرِ إِذْنٍ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ بَعْدُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبَانٍ الرَّقَاشِيُّ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نےتمہیں گھڑے کی نبیذ سے منع کیا تھا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کے حوالے سے منع کیا تھاخبر دار برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے ہیں خبر دارتم قبروں کی زیارت کرو کیونکہ یہ دلوں کو نرم کرتی ہے ۔‘‘عبداللہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائدنقل کیے ہیں : ”خبردار میں نے تمہیں قربانی کے گوشت سے منع کیا تھااب تم کھاؤ بھی اور جتناتم چاہوذ خیرہ بھی کرو‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:میں یہ کہتا ہوں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے’’صحیح‘‘ میں حدیث مذکور ہے ‘جوقربانی کے گوشت اور برتنوں کے بارے میں ہے اس میں یہ ذکرنہیں ہے کہ بعد میں اس بارے میں اجازت دے دی گئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے ‘جس میں ضعف پا یا جا تا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
ابْنِ عُمَرَ
Hadith 6001
