مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ] · حديث 7657
7657 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلَامِ فَقَالَ: " إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ " قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعُوذُ بِاللَّهِ - يَا نَبِيَّ اللَّهِ - مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ. قَالَ: " بَلَى إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا وَيَطُولُ تَعْنِيسُهَا، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْبَعْلَ وَيُفِيدُهَا الْوَلَدَ وَقُرَّةَ الْعَيْنِ، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا رَأَتْ مِنْهُ سَاعَةَ خَيْرٍ قَطُّ فَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ الْمُنْعِمِينَ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: السَّلَامَ عَلَى النِّسَاءِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدہ اسما بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک دن مسجد میں سے ہوا تو اس وقت کچھ خواتین وہاں بیٹھی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے انہیں اشارہ کرکے سلام کیا اور ارشاد فرمایا تم نعمت دینے والوں کی ناشکری کرنے سے بچنا ان خواتین میں سے ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری سے (پناہ مانگتی ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم میں سے کوئی ایک عورت ایک طویل عرصے تک بیوہ ( یا طلاق یافتہ ) رہتی ہے یہاں تک کہ ( شوہر کے بغیر ) اس کا رہنا طویل ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے شوہر عطا کرتا ہے اور اسے اولاد نصیب کرتا ہے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرتا ہے پھر وہ عورت غصے میں آتی ہے، اور اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہتی ہے کہ اس کے شوہر کی طرف سے کبھی بھلائی کا ایک لمحہ بھی نہیں پایا تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری میں شامل ہے ، اور یہ نعمت دینے والوں کی ناشکری میں شامل ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابو داؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے " آپ نے خواتین کو سلام کیا" ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔
أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةَ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › Chapter on the Right of the Wife to the Woman] · Hadith 7657
