مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَاللَّهْوِ وَالنِّثَارِ] · حديث 7537
7537 - وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " مَا فَعَلَتْ فُلَانَةُ؟ " لِيَتِيمَةٍ كَانَتْ عِنْدَهَا. فَقُلْتُ: أَهْدَيْنَاهَا إِلَى زَوْجِهَا. قَالَ: " فَهَلْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا جَارِيَةً تَضْرِبُ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّي؟ " قَالَتْ: تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: " تَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ. لَوْلَا الذَّهَبُ الْأَحْمَرُ مَا حَلَّتْ بِوَادِيكُمْ. لَوْلَا الْحِنْطَةُ السَّمْرَا مَا سَمِيَتْ عَذَارِيكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا: فلاں لڑکی کا کیا حال ہے ؟ وہ ایک یتیم لڑکی تھی، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیر پرورش تھی ، میں نے عرض کی: میں نے اس کی اس کے شوہر کے گھر رخصتی کروا دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے ساتھ کسی ایسی لڑکی کو کیوں نہیں بھیجا ، جو دف بجاتی اور گانا گاتی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نےعرض کی : وہ کیا گاتی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ گاتیں : " ہم تمہارے پاس آئے ہیں ہم تمہارے پاس آئے ہیں تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اگر سرخ سونا نہ ہوتا ، تو اس نے تمہارے ہاں نہیں آنا تھا، اور اگر صاف گندم نہ ہوتی ، تو تمہاری کنواری لڑکیوں نے صحت مند نہیں ہونا تھا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رواد بن جرح ہے ، جسے امام احمد یحییٰ بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Chapter Announcing Marriage, Fun and Prospecting] · Hadith 7537
