مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلِيِّ وَالشُّهُودِ] · حديث 7513
7513 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جس عورت کے ساتھ ، اس کے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا جائے ، تو اس عورت کا نکاح باطل شمار ہوگا، اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ، تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے، اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا، لیکن ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی، اور اگر مرد نے اس کی رخصتی نہیں کروائی تھی، تو پھر ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی، اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو"۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابو حمزہ ہے اور وہ متروک ہے۔
النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Chapter on what came in the saints and witnesses] · Hadith 7513
