مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابُ الِاسْتِئْمَارِ] · حديث 7465
7465 - «وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ يَأْتِيهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ فَيَقُولُ لَهَا: " يَا بُنَيَّةُ إِنَّ فُلَانًا خَطَبَكِ، فَإِنْ كَرِهْتِيهِ فَقُولِي: لَا، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَحِي أَحَدٌ أَنْ يَقُولَ: لَا. وَإِنْ أَحْبَبْتِ، فَإِنَّ سُكُوتَكِ إِقْرَارٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے خاندان کی خواتین میں سے کسی خاتون کی شادی کروانی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دے کے پیچھے ان کے پاس تشریف لاتے اور ان سے فرماتے : اے میری بیٹی فلاں شخص نے تمہیں شادی کا پیغام دیا ہے، اگر تمہیں یہ ناپسند ہے، تو تم کہہ دو : جی نہیں ! کیونکہ کوئی بھی شخص " نہ " کہتے ہوئے نہیں شرماتا اور اگر یہ تمہیں پسند ہے ، تو تمہاری خاموشی اقرار شمار ہوگی۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے، اور یحییٰ بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے۔
عُمَرَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Chapter of security] · Hadith 7465
