مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ بَابُ الْحَثِّ عَلَى النِّكَاحِ وَمَا جَاءَ فِي ذَلِكَ] · حديث 7297
7297 عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَا عَكَّافُ هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: " وَلَا جَارِيَةٍ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: " وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ؟ " قَالَ: وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ. قَالَ: " أَنْتَ إِذَنْ مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ، لَوْ كُنْتَ مِنَ النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ، شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ، وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ، أَبِالشَّيَاطِينِ تَمْرُسُونَ؟ مَا لِلشَّيَاطِينِ سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا. وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ ". قَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ: مَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَمِائَةِ عَامٍ؛ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، ثُمَّ إِنَّهُ كَفَرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا وَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ اسْتَدْرَكَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ. وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ، وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ ". قَالَ: زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس کا نام عکاف بن بشر تمیمی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : اے عکاف ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا : کنیز بھی نہیں ہے ؟ اس نے عرض کی ! جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم بھلائی کے ساتھ خوشحال ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں بھلائی کے ساتھ خوشحال ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورت میں تم شیاطین کے بھائیوں میں سے ایک ہو، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے ، تو ان کے راہبوں میں سے ایک ہوتے ، ہماری سنت نکاح کرنا ہے اور تم میں سے برے لوگ کنوارے ہیں اور تم میں بری موت کنواروں کو آتی ہے، کیا تم شیاطین کے راستے پر چلنا چاہتے ہو؟ شیاطین کا کوئی ہتھیار ایسا نہیں ہے ، جو نیک لوگوں کے بارے میں ، عورتوں سے زیادہ تیز ہو ، البتہ شادی کرنے والوں کا معاملہ مختلف ہے، وہ لوگ پاک اور خیانت ( یا فحاشی ) سے بری ہوتے ہیں ، اے عکاف ! تمہارا ستیا ناس ہو، یہ ( خواتین ) حضرت ایوب علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام اور کرسف کی بیویاں رہی ہیں ( یا یہ حضرات بھی شادی شدہ تھے ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت بشر بن عطیہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! " کرسف " کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شخص جو سمندر کے ایک ساحل پر تین سو سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا ، وہ دن کے وقت روزہ رکھتا اور رات کو نفل پڑھا کرتا تھا ، پھر اس نے ایک عورت کے عشق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی جو عباد ت کی تھی ، اسے چھوڑ دیا ، پھر اس کی کسی نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق بخشی اس نے توبہ کی۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ) اے عکاف تمہارا ستیا ناس ہو ، تم شادی کر لو ! ورنہ تم درمیان کے لوگوں میں رہو گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ میری شادی کروا دیجیے ! نبی اکرم ق فرمایا : میں تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
اَبِیْ ذَرٍّ
Hadith 7297
