مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ] · حديث 457
457 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَفَدَّاهُ بِالْأُمِّ وَالْأَبِ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالَكَ؟ قَالَ: " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَدَمَعَتْ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ".
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ( سفر کر رہے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا آپ کے ساتھ ہم لوگ تقریباً ایک ہزار سے سوار تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعت ادا کیں ، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ کے پاس آئے اور یہ کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور دریافت کیا: یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے اپنی والدہ کے لیے داعائے مغفرت کی اجازت مانگی تھی، تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی، تو اس خاتون کے لیے رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے کہ وہ جہنم میں جائیں گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
«كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فَنَزَلَ ← بُرَيْدَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in the people of Jahiliyah] · Hadith 457
