مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ] · حديث 421
421 - وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ: «قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: كَيْفَ عَرَفْتَ أَمْرَ الْمُنَافِقِينَ وَلَمْ يَعْرِفْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -؟ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَسِيرُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَامَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَسَمِعْتُ نَاسًا مِنْهُمْ يَقُولُونَ: لَوْ طَرَحْنَاهُ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهُ فَاسْتَرَحْنَا مِنْهُ، فَسِرْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، وَجَعَلْتُ أَقْرَأُ وَأَرْفَعُ صَوْتِي فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " فَقُلْتُ: حُذَيْفَةُ. قَالَ: " مَنْ هَؤُلَاءِ؟ ". قُلْتُ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَدْتُهُمْ. قَالَ: " وَسَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ ". قُلْتُ: نَعَمْ، وَلِذَلِكَ سِرْتُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ. قَالَ: " فَإِنَّ هَؤُلَاءِ فُلَانًا وَفُلَانًا " حَتَّى عَدَّ أَسْمَاءَهُمْ " مُنَافِقُونَ، لَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَقَدِ اخْتَلَطَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.
صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ نے منافقین کے معاملے کو کیسے پہچان لیا ؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی اسے نہیں پہچان سکا ، یہاں تک کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ( اسے نہیں پہچان سکے ) تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک مرتبہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چلتا ہو جا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر سو گئے اسی دوران میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا : اگر ہم انہیں ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ) ان کی سوار سے گرا دیں ، تو ان کی گردن ٹوٹ جائے گی ، اور ہمیں ان سے نجات مل جائے گی ، تو میں ان لوگوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان چلتا رہا، میں نے بلند آواز میں تلاوت شروع کر دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہو گئے ، آپ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : حذیفہ ! آپ نے دریافت کیا : کہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے بتایا : فلاں ہے ، اور فلاں ہے یہاں تک کہ میں نے ان سب کے بارے میں بتا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا : انہوں نے جو کہا ہے وہ تم نے سنا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! ۔ اسی لیے میں آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان چل رہا ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ فلاں اور فلاں ہیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے نام گنوائے اور فرمایا : یہ منافقین ہیں ، تم کسی کو نہ بتانا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A section of it among the hypocrites] · Hadith 421
