مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ] · حديث 385
385 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ السَّبْعَ "، فَسَكَتَ النَّاسُ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تَسْأَلُونَنِي عَنْهُمْ؟ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَالتَّعَرُّبُ بَعْدَ الْهِجْرَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.
حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " سات کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو ! لوگ خاموش رہے ، کسی نے کوئی بات نہیں کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھ سے ان کے ( کبیرہ گناہوں کے ) بارے میں دریافت نہیں کرو گے؟ ( وہ یہ ہیں : ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا ، کسی کو قتل کرنا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سو د کھانا ، پاک دامن عورت پر الزام لگانا ، اور ہجرت کر لینے کے بعد دیہاتی زندگی اختیار کرنا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایک راوی ابن لہیعہ ہے۔
«اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ السَّبْعَ فَسَكَتَ النَّاسُ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in the majorities] · Hadith 385
