مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي الْإِسْرَاءِ] · حديث 241
241 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى «أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبُرَاقِ، فَحَمَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا بَلَغَ مَكَانًا مُطَأْطِئًا طَالَتْ يَدَاهَا وَقَصُرَتْ رِجْلَاهَا حَتَّى تَسْتَوِيَ بِهِ، وَإِذَا بَلَغَ مَكَانًا مُرْتَفِعًا قَصُرَتْ يَدَاهَا وَطَالَتْ رِجْلَاهَا حَتَّى تَسْتَوِيَ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ فَجَعَلَ يُنَادِيهِ: يَا مُحَمَّدُ، إِلَى الطَّرِيقِ، مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: امْضِ وَلَا تَكَلَّمْ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ، فَقَالَ لَهُ: إِلَى الطَّرِيقِ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: امْضِ وَلَا تُكَلِّمْ أَحَدًا، ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا. قَالَ: تِلْكَ الْيَهُودُ دَعَتْكَ إِلَى دِينِهِمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي دَعَاكَ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: تِلْكَ النَّصَارَى دَعَتْكَ إِلَى دِينِهِمْ، هَلْ تَدْرِي مَنِ الْمَرْأَةُ الْحَسْنَاءُ الْجَمْلَاءُ؟ قَالَ: تِلْكَ الدُّنْيَا دَعَتْكَ إِلَى نَفْسِهَا، ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَإِذَا هُوَ بِنَفَرٍ جُلُوسٍ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، فَإِذَا فِي النَّفَرِ الْجُلُوسِ شَيْخٌ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ سَأَلَهُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مُوسَى، ثُمَّ سَأَلَهُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَدَافَعُوا حَتَّى قَدَّمُوا مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَوْا بِأَشْرِبَةٍ، فَاخْتَارَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّبَنَ، قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ، ثُمَّ قِيلَ لَهُ: قُمْ إِلَى رَبِّكَ فَقَامَ فَدَخَلَ، ثُمَّ جَاءَ فَقِيلَ لَهُ: مَاذَا صَنَعْتَ؟ فَقَالَ: فُرِضَتْ عَلَى أُمَّتِي خَمْسُونَ صَلَاةً، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ هَذَا، فَرَجَعَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: مَاذَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: رَدَّهَا إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ، فَرَجَعَ ثُمَّ جَاءَ حَتَّى رَدَّهَا إِلَى خَمْسٍ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ، فَقَالَ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي مِمَّا أُرَاجِعُهُ، وَقَدْ قَالَ لِي: " لَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتَهَا مَسْأَلَةٌ أُعْطِيكَهَا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا مُرْسَلًا، وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَمَعَ الْإِرْسَالِ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس براق لے کر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر سوار کروایا، جب وہ کسی ہموار جگہ پر پہنچتا تھا، تو اس کے ہاتھ لمبے ہو جاتے تھے اور ٹانگیں چھوٹی ہو جاتی تھی، اور جب کوئی بلند جگہ آتی تھی، تو اس کے ہاتھ چھوٹے ہو جاتے تھے اور ٹانگیں لمبی ہو جاتی تھیں ، یہاں تک کہ وہ سیدھا ہو جاتا تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دائیں طرف ایک شخص آیا ، اس نے آپ کو پکار کر کہا: اے محمد ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس طرف آئیے ! اس نے دو مرتبہ یہ کہا: حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : آپ چلتے رہیے اور کلام نہ کریں ! پھر راستے کے بائیں طرف ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا ، اور اس نے یہ کہا: اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس طرف آئیے! حضرت جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : آپ چلتے رہیے ! اور کسی کے ساتھ کلام نہ کریں ! پھر ایک حسین و جمیل عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آئی ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ جانتے ہیں کہ راستے کے دائیں طرف جو شخص تھا ، وہ کون تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جی نہیں ! حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : وہ یہودی تھے ، جو آپ کو اپنے دین کی طرف دعوت دے رہے تھے، پھر حضرت جبرائیل نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں ، وہ شخص کون تھا؟ جو راستے کے بائیں طرف آپ کو بلا رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: جی نہیں ! حضرت جبرائیل نے بتایا : وہ عیسائی تھے ، جو آپ کو اپنے دین کی طرف بلا رہے تھے ، کیا آپ جانتے ہیں ؟ وہ حسین و جمیل عورت کون تھی ؟ حضرت جبرائیل نے بتایا : وہ دنیا تھی، جو آپ کو اپنی طرف بلا رہی تھی ، پھر ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہم بیت المقدس آ گئے ، وہاں ، کچھ افراد بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا : " امّی نبی " کو خوش آمدید ان بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان ایک عمر رسیدہ صاحب بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون ہیں ؟ تو حضرت جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: یہ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل نے بتایا : یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں ، پھر نماز کھڑی ہوئی ، تو ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ( امامت کے لیے ) آگے کر دیا۔ پھر فرشتے کچھ مشروب لے کر آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ کو اختیار کیا، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ نے فطرت کی پیروی کی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا: آپ اٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوں ، آپ اٹھے اور اندر داخل ہو گئے، جب آپ تشریف لائے تو آپ سے دریافت کیا گیا: آپ نے کیا کیا ( یعنی آپ کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لیے تخفیف مانگیں ! کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے دریافت کیا ، کیا بنا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا : پر وردگار نے انہیں پچیس میں تبدیل کر دیا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اس سے اپنی امت کے لیے تخفیف مانگیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس گئے ، پھر آئے ، یہاں تک کہ پروردگار نے جب پانچ نمازیں فرض کر دیں ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کہا : آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لیے تخفیف مانگیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بار بار جانے کی وجہ سے اب مجھے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہے جبکہ پروردگار نے مجھے یہ فرما دیا ہے : " میں نے جب بھی تمہیں واپس کیا ، تو ہر مرتبہ کے عوض ، ایک سوال کا حق دیتا ہوں جو میں پورا کروں گا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح " مرسل " روایت کے طور پر نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں : ابن لیلیٰ کے حوالے سے یہ روایت اسی سند کے ساتھ منقول ہے، ایک تو اس میں " ارسال " پا یا جاتا ہے دوسرا اس میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A section of it in secret) · Hadith 241
