مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ حُقُوقِ الْجُمُعَةِ مِنَ الْغُسْلِ وَالطِّيبِ وَنَحْوِ ذَلِكَ] · حديث 3050
3050 - وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَغْتَسِلَ فِي كُلِّ أُسْبُوعٍ مَرَّةً - يَعْنِي الْجُمُعَةَ». وَفِي إِسْنَادِهِمَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ الْعَقِيلِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ قَالَ الذَّهَبِيُّ: وَرَوَى لَهُ حَدِيثًا جَيِّدًا وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يُخْطِئُ.
ان صحابی کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے : ( وہ بین کرتے ہیں : ) اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم ہر ہفتے میں ایک دن غسل کیا کریں راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ جمعہ کے دن ایسا کیا کریں ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی ہے عقیلی بیان کرتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی امام ذہبی کہتے ہیں : انہوں نے اس کے حوالے سے ایک عمدہ حدیث نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے اس راوی کا ذکر کتاب " الثقات" میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غلطی کرتا ہے ۔
يُخْطِئُ. ← ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ← الذَّهَبِيُّ: وَرَوَى لَهُ حَدِيثًا جَيِّدًا ← العقيلى: لا يتابع على حديثه
Hadith 3050
