مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ التَّشَهُّدِ وَالْجُلُوسِ وَالْإِشَارَةِ بِالْإِصْبَعِ فِيهِ] · حديث 2862
2862 - وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أُخْبِرُكَ عَنْ هَدْيِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلِهِ فِي الصَّلَاةِ وَفِعْلِهِ وَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ كَانَ يُعَلِّمُنَا كَيْفَ نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ حِينَ نَقْعُدُ: " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تَسْأَلُ مَا بَدَا لَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَتَرْغَبُ إِلَيْهِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَمَغْفِرَتِهِ كَلِمَاتٍ يَسِيرَةٍ وَلَا تُطِيلُ بِهَا الْقُعُودَ"، وَكَانَ يَقُولُ: أُحِبُّ أَنْ تَكُونَ مَسْأَلَتُكُمُ اللَّهَ حِينَ يَقْعُدُ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَيَقْضِي التَّحِيَّةَ أَنْ يَقُولَ بَعْدَ ذَلِكَ: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَصْلِحْ لِي عَمَلِي إِنَّكَ تَغْفِرُ الذُّنُوبَ لِمَنْ تَشَاءُ وَأَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، يَا غَفَّارُ اغْفِرْ لِي يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَيَّ، يَا رَحْمَنُ ارْحَمْنِي، يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّي، يَا رَءُوفُ ارْؤُفْ بِي، يَا رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَطَوِّقْنِي حُسْنَ عِبَادَتِكَ، يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، يَا رَبِّ افْتَحْ لِي بِخَيْرٍ وَاخْتِمْ لِي بِخَيْرٍ وَآتِنِي شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، وَقِنِي السَّيِّئَاتِ وَمَنْ تَقِي السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، ثُمَّ مَا كَانَ مِنْ دُعَائِكُمْ فَلْيَكُنْ فِي تَضَرُّعٍ وَإِخْلَاصٍ فَإِنَّهُ يُحِبُّ تَضَرُّعَ عَبْدِهِ إِلَيْهِ». قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي صَلَاةِ النَّافِلَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
یحیی بن ابو کثیر بیان کرتے ہیں : ابو عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے خط لکھا اما بعد میں تمہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طریقے اور نماز میں انکے قول اور ان کے فعل کے بارے میں بتانے لگا ہوں وہ یہ بات بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو جامع کلمات عطا کیے گئے تھے آپ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ نماز کے دوران جکب ہم بیٹھ جائیں تو ہمیں کیا پڑھنا چاہیے ( وہ کلمات یہ ہیں: )" ہر ہرطرح کی جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں"۔ پھر اس کے بعد تمہیں جو مناسب لگے تم وہ مانگو اور اس کی رحمت اور مغفرت کی طرف مختصر کلمات کے ذریعے رغبت کا اظہار کرو تم زیادہ طویل نہ بیٹھو وہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے دوران بیٹھاہوا ہو تو اللہ تعالی سے مانگو اور اس کے بعد وہ تحیت کو پورا کرے اور یہ پڑھے ۔"تو ہر عیب سے پاک ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو میرے گناہوں کی مغفرت کر دے میرے عمل کو ٹھیک کر دے بے شک تو جس کی چاہتا ہے اس کے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، تو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے اسے بہت زیادہ مغفرت کرنے والے ، تو میری مغفرت کر دے اے بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والے ، تو میری توبہ قبول فرما لے اے انتہائی مہربان تو مجھ پر رحم کر اے معاف کرنے والے ، تو مجھ سے در گزر فرما اے مہربان تو مجھ پر مہربانی کر اے میرے پروردگار ! تو مجھے یہ توفیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو نعمت تو نے مجھ پر کی ہے ، ےتو مجھے اچھی طریقے سے اپنی عبادت کے راستے پر چلا : اے پروردگار ! میں تجھ سے ہر قسم کی بھلائی مانگتاہوں اور ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اے میرے پروردگار ! میرے لئے بھلائی کو کھول دے اور میرا خاتمہ بھلائی کے ذریعے کرنا اور مجھے اپنی بار گاہ میں حاضری کا شوق نصیب رما جو کسی نقصان پہچانے والے نقصان اور کسی گمراہ کرنے والی آزمائش کے بغیر ہوا اور مجھے برائیوں سے بچا کے رکھنا جسے تو برائیوں سے بچا لے گا اس پر تو رحم کرے گا ، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے "۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتاہوں : یہ روایت مکمل روایت کے طور پر آگے چل کر نقل نماز کے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابو عبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے سماع نہیں کیا ہے۔
هَدْيِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلِهِ فِي الصَّلَاةِ وَفِعْلِهِ وَقَالَ: ← إِلَيَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أُخْبِرُكَ ← وَعَن يحيى بن أبي كثير،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on witnessing, sitting, and pointing with a finger in it] · Hadith 2862
