مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ [بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ] · حديث 12866
12866 - وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " مَا اسْمُكَ؟ ". قَالَ: شِهَابٌ. قَالَ: " بَلْ أَنْتَ هِشَامٌ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا :تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: شہاب تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم ہشام ہو۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے‘ اور وہ حسن الحد یث ہے‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
شِھَابٍ، ← مَا اسْمُكَ؟ ← هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › [Chapter on changing names, what is forbidden in them and what is desirable] · Hadith 12866
