مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ [بَابُ لَا فَضْلَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِالتَّقْوَى] · حديث 13081
13081 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا أُعْجِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَيْءٍ، وَلَا أَعْجَبَهُ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيهَا ذُو تُقًى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوکوئی بھی چیز پسندنہیں تھی اور نہ ہی دنیا کی کوئی چیز آپ کو اچھی لگتی تھی البتہ اگر اس میں پر ہیز گاری کا پہلو ہو تو حکم مختلف ہے۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے‘ اور وہ کمزور ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
«مَا أُعْجِبَ النَّبِيُّ بِشَيْءٍ، وَلَا أَعْجَبَهُ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا، إِلَّا ← عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › [Chapter There is no preference for one over another except through godliness] · Hadith 13081
