مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ [بَابٌ فِي الِاسْتِئْذَانِ وَفِيمَنِ اطَّلَعَ فِي دَارٍ بِغَيْرِ إِذْنٍ] · حديث 12818
12818 - وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَسْتَأْذِنُ، فَدَقَّ الْبَابَ دَقًّا خَفِيفًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَا سَفِينَةُ، افْتَحْ لَهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت سفینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا‘ اسی دوران حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے اجازت مانگتے ہوئے درواز ہ آرام سے کھٹکھٹایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے سفینہ! اس کے لئے درواز کھول دو۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
«كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ وَجَاءَ عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ، فَدَقَّ الْبَابَ دَقًّا خَفِيفًا، ← سَفِينَةَ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › [Chapter on asking for permission, and for whom went out in a house without permission] · Hadith 12818
