مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ [بَابُ الْبُدَاءَةِ بِالسَّلَامِ] · حديث 12746
12746 - وَعَنِ الْأَغَرِّ - أَغَرِّ مُزَيْنَةَ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ لِي بِجُزْءٍ مِنْ تَمْرٍ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَطَلَنِي بِهِ، فَكَلَّمْتُ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " اغْدُ مَعَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ فَخُذْ لَهُ ثَمَرَهُ ". فَوَعَدَنِي أَبُو بَكْرٍ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ، فَوَجَدْتُهُ حَيْثُ وَعَدَنِي، فَانْطَلَقْنَا، فَكُلَّمَا رَأَى أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَعِيدٍ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا تَرَى مَا يُصِيبُ الْقَوْمُ عَلَيْكَ مِنَ الْفَضْلِ، لَا يَسْبِقُكَ إِلَى السَّلَامِ أَحَدٌ. فَكُنَّا إِذَا طَلَعَ الرَّجُلُ بَادَرْنَاهُ بِالسَّلَامِ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَحَدِ إِسْنَادِيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت اغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اغر مزینہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے انصار کے پاس موجود ایک شخص کچھ کھجوریں لینے کا حکم دیا اس شخص نے مجھے دینے میں ٹال مٹول کی میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات چیت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابو بکر تم کل اس کے ساتھ جانا اور اس کو کھجوریں دلوا دینا‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے ساتھ مسجد میں ملنے کا وعدہ کیا کہ جب ہم صبح کی نماز پڑھ لیں گے تو چلیں گے‘ میں نے انہیں وعدے کے مطابق پایا پھر ہم روانہ ہوئے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو بھی شخص دور سے دیکھتا تھا وہ انہیں سلام کرتا تھا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیاتم نے یہ بات دیکھی ہے کہ لوگ تم پر فضیلت حاصل کیے جا رہے ہیں ہرشخص سلام میں تم سے سبقت لے جاتا ہے راوی کہتے ہیں: تو پھر جو بھی شخص ہمارے سامنے آتا تھا اس کے سلام کرنے سے پہلے ہی ہم اسے سلام کر لیتے تھے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
الأغر أغر مزينة
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › [Chapter of the beginning of peace] · Hadith 12746
