مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ [بَابُ هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ] · حديث 13333
13333 - وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُنْشِدُ وَيَقُولُ: أَلَا هَلْ أَتَى غَسَّانَ عَنَّا وَدُونَهُمْ ... مِنَ الْأَرْضِ حَرْقٌ حَوْلَهُ يُتَتَبَّعُ تُجَالِدُنَا عَنْ حَرَمِنَا كُلُّ فَحْمَةٍ ... كَرِدْفٍ لَهَا فِيهَا الْقَوَانِسُ تَلْمَعُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ". فَقَالَ كَعْبٌ: تُجَالِدُنَا عَنْ دِينِنَا كُلَّ فَحْمَةٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " نَعَمْ يَا كَعْبُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ اس وقت میں اشعار پڑھ رہے تھے: ’’خبردار! کیا غسان (قبیلے کے لوگوں) اور اس سے پہلے کی زمین (کے لوگوں) کو جلائے جانے کی اطلاع ملی ہے جس کے اردگرد اضطراب ہوتا ہے‘ کیا تم ہماری حرمتوں کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو‘ ہر ایک ٹکڑا یوں ہے جیسے اس کے پیچھے کوئی ہے‘ جس کے خود کا اوپری حصہ چمک رہا ہے‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی نہیں ! اے کعب بن مالک! تو حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: (یعنی انہوں ایک مصرعہ کو تبد یل کر کے یہ پڑھا:)” کیا تم ہمارے دین کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو؟‘‘۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں !اے کعب! یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند حسن ہے۔
كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › [Chapter in satire the polytheists] · Hadith 13333
