مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ يَرْقُدُ عَلَى وَجْهِهِ] · حديث 13189
13189 - وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: أَلَا تُخْبِرُنَا خَبَرَ أَبِيكَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفَةَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا كَثُرَ الضَّيْفُ عِنْدَهُ قَالَ: " لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ بِضَيْفِهِ ". حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، اجْتَمَعَ ضِيفَانٌ كَثِيرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ مَعَ جَلِيسِهِ ". قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنِ انْقَلَبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ ". قَالَتْ: نَعَمْ، حُوَيْسَةٌ اتَّخَذْتُهَا لِإِفْطَارِكَ. قَالَ: فَجَاءَتْ بِهَا فِي قُعَيْبَةٍ لَهَا، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهَا قَلِيلًا فَأَكَلَهُ ثُمَّ قَالَ: " كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ ". فَأَكَلْنَا مِنْهَا، حَتَّى مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا. ثُمَّ قَالَ: " هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَرَابٍ؟ ". قَالَتْ: نَعَمْ، لُبَيْنَةٌ كُنْتُ اتَّخَذْتُهَا لَكَ. قَالَ: " هَلُمِّيهَا ". قَالَ: فَجَاءَتْ بِهَا، فَتَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَفَعَهَا إِلَى فِيهِ، فَشَرِبَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ: " اشْرَبُوا بِاسْمِ اللَّهِ ". فَشَرِبْنَا حَتَّى وَاللَّهِ مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا. ثُمَّ خَرَجْنَا، فَأَتَيْتُ الْمَسْجِدَ، فَاضْطَجَعْتُ عَلَى وَجْهِي، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَفْلَةً، فَجَعَلَ يُوقِظُ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ يُوقِظُ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ، فَمَرَّ بِي وَأَنَا عَلَى وَجْهِي فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ ". فَقُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفَةَ. فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ طِهْفَةَ بِاخْتِصَارٍ، وَالنَّسَائِيُّ، عَنْ طِهْفَةَ وَغَيْرِهِ، وَلَمْ يُسَمِّ غَيْرَ طِهْفَةَ، وَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا رَوَاهُ، عَنِ ابْنِ طِهْفَةَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حارث بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اسی دوران بنو غفار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہمارے سامنے آیا جو حضرت عبداللہ بن طہفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا تھا ابو سلمہ نے کہا: کیا تم ہمیں اپنے والد کے بارے میں خبر نہیں دو گے تو اس نے یہ بات بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن طہفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ’’جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں مہمان زیادہ ہو جاتے تھے تو آپ فرماتے تھے: ہرشخص اپنے متعلقہ مہمان کو ساتھ لے کے واپس جائے ایک مرتبہ رات کے وقت آپ کے پاس بہت سے مہمان اکٹھے ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو ساتھ لے کر واپس جائے راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیا جب آپ گھر میں داخل ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ کیا کوئی چیز ہے۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں! آپ کی افطاری کے لیے تھوڑا سا ’’حیس‘‘ ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے تھوڑ اسالے کر اس کو کھالیا پھر آپ نے فرمایا: تم لوگ اللہ کا نام لے کے اس کو کھاؤ تو ہم نے اس میں سے کھایا یہاں تک کہ ہم اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مشروب ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں ۔ تھوڑا سا دودھ ہے جو میں نے آپ کے لئے سنبھال کے رکھا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہی لے آؤ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لے آئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے لیا آپ نے اسے اپنے منہ کی طرف بلند کیا پھر اس میں سے تھوڑا سا پیا پھر فرمایا تم اللہ کا نام لے کے پیو ہم نے پی لیا یہاں تک کہ اللہ کی قسم ہم اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے پھر ہم نکلے میں مسجد میں آیا اور اپنے چہرے کے بل (یعنی الٹاہوکر) لیٹ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے آپ لوگوں کو نماز کے لئے بیدار کر رہے تھے لوگوں کو نماز کے لئے بیدار کرتے ہوئے جب آپ میرے پاس سے گزرے تو میں چہرے کے بل لیٹا ہوا تھا آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: عبداللہ بن طہفہ آپ نے فرمایا: یہ لیٹنے کا ایساطریقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ہے‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابو داؤد نے حضرت طہفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور امام نسائی نے بھی حضرت طہفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور اس کے علاوہ ایک اور حوالے سے نقل کی ہے لیکن انہوں نے اس دوسرے شخص کا نام بیان نہیں کیا اور میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں پایا جس نے اسے حضرت طبقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے کے حوالے سے نقل کیا ہو باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور حضرت عبداللہ بن طہفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
جَالِسٌ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بن عبد الرَّحْمَن ← بَيْنَا ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › A door in whom lies on his face] · Hadith 13189
