مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ] · حديث 10267
10267 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: فَوَلَّى [عَنْهُ] النَّاسُ، وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ. فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا، وَلَمْ نُوَلِّهِمُ الدُّبُرَ، وَهُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةَ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ، فَقُلْتُ [لَهُ]: ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ، فَقَالَ: " نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ ". فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا، [ثُمَّ] قَالَ: " أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ؟ " قُلْتُ: هُمْ أُولَاءِ، قَالَ: " اهْتِفْ بِهِمْ " فَهَتَفَ بِهِمْ فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ، وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا راوی کہتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ کر مڑ گئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسی افراد رہ گئے جن کا تعلق مہاجرین اور انصار سے تھا ہم اسی قدم کے لگ بھگ پیچھے ہٹے تھے لیکن ہم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی یہ وہ لوگ ہیں جن پر الله تعالی نے سکینت نازل کی تھی نبی اکرم سلام اپنے خچر پر سوار ہو کر آگے کی طرف بڑھ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خچر کو لے کے آگے بڑھ رہے تھے تو اسی دوران اس کی زین ہٹ گئی میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھیں الله تعالی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلند کرے تونبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھےمٹھی بھر مٹی دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مٹی ان لوگوں کے منہ پر پھینکی تو وہ ان کی آنکھوں میں بھر گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا: مہاجرین اور انصار کہاں ہیں میں نے عرض کیا : وہ یہاں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم انہیں پکارو میں نے انہیں پکارا تو وہ لوگ آگئے ان کی تلواریں ان کے ہاتھوں میں تھیں وہ شہاب کی طرح تھے اور پھر مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگے۔یہ روایت امام احمد اورامام بزارنے اور طبرانی نے نقل کی ہے۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن حصیرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔
«كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ يَوْمَ حُنَيْنٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [The battle of Hanin] · Hadith 10267
